کولکاتہ، 8 جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مغربی بنگال میں ایک بار پھر پولیس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامیوں میں تصادم کی خبر ہے۔مشرقی مدناپور کے پاٹش پور میں بی جے پی کارکنوں کو مبینہ طور پر ترنمول کانگریس کے کارکنوں کی طرف سے روکنے پر یہ ہنگامہ ہوا۔بی جے پی کارکنان آئندہ9 اگست کو ’سنڈیکیٹ راج‘ کے خلاف ہونے والے مظاہرے کی تشہیر کر رہے تھے۔الزام ہے کہ ٹی ایم سی کارکنوں نے بی جے پی کی تشہیری گاڑی کو روک دیا۔اس کے بعد بی جے پی کارکن، ٹی ایم سی دفتر کے باہر مظاہرہ کرنے لگے اور جام لگا دیا، موقع پر پہنچی پولیس نے جب جام ہٹوانے کی کوشش کی تو بی جے پی حامی بھڑک گئے،اس کے بعد جھڑپ ہوئی،دو پولیس اہلکار اور 6 بی جے پی کارکنان زخمی بتائے جا رہے ہیں۔ہنگامہ تب اور بڑھ گیا جب پولیس انتظامیہ نے احتجاج کرتے بی جے پی کارکنوں کو روکنے کی کوشش کی۔بی جے پی کارکنان ترنمول کانگریس پارٹی کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کر رہے تھے۔انہوں نے راستے کو بھی جام کر دیا تھا،بعد میں پولیس نے راستہ کھلوایا، اتنے میں بی جے پی کارکن ان سے جھڑپ گئے۔پولیس کی چار گاڑیوں میں توڑ پھوڑ ہوئی۔حاصل معلومات کے مطابق اس جھڑپ میں دو پولیس اہلکار اور6 بی جے پی کارکنان زخمی ہیں۔مغربی مدناپور ضلع میں گزشتہ پیر کی صبح ترنمول کانگریس کے ایک لیڈر کے گھر کے قریب ان کی لاش ملی تھی۔پولیس نے یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ نارائن گڑھ میں بلاک کے ترنمول لیڈر گنیش بھیا کی لاش سڑک کنارے جھاڑیوں سے برآمد کی گئی،ان کے جسم پر چوٹ کے نشان تھے۔ترنمول کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ قتل کے پیچھے ’بی جے پی کی حمایت یافتہ غیر سماجی عناصر کا‘ ہاتھ ہے۔ضلع کے ایک ترنمول لیڈر نے کہاکہ بی جے پی بنگال میں تشدد اور خون کی سیاست قائم کرنا چاہتی ہے،وہ علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے قتل، لوٹ، بربریت اور آتش زنی کا سہارا لے رہے ہیں۔ترنمول کانگریس اب بھی ہر ممکن طریقے سے جمہوریت کی حفاظت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ واقعہ ہگلی ضلع کے واڈر ریلوے اسٹیشن میں ایک ترنمول لیڈر کو دن دہاڑے گولی مار کر قتل کرنے کے دو دن بعد ہواتھا۔